Tafsir As-Saadi
7:103 - 7:171

پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)

[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔