جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔