Tafsir As-Saadi
8:38 - 8:40

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)

[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔