نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی جو تحقیق کہا گیا رسولوں سے آپ سے پہلے، بے شک آپ کا رب بخشش والا اور درد ناک عذاب دینے والا ہے (43)
[43]﴿مَا يُقَالُ لَكَ ﴾ ’’نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بارے میں‘‘ اے رسول! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عناد رکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ ﴿اِلَّا مَا قَدۡ قِيۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’مگر وہی جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا‘‘ یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے، بلکہ بسااوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی، مثلاً: انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص للہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے: ﴿مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾(يٰسٓ:36؍15) ’’تم ہماری ہی طرح بشر ہو۔‘‘ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الفاظ جو اہل تکذیب کی زبان سے صادر ہوئے۔ چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ تمام انبیاء و مرسلین نے کفار کی ایذا رسانی اور ان کی تکذیب پر صبر کیا اس لیے آپ بھی صبر کیجیے جس طرح آپ سے قبل انبیاء و مرسلین نے صبر کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو توبہ اور اسباب مغفرت کی طرف آنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے ڈرایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب معاف کردینے والا بھی ہے‘‘ یعنی تیرا رب عظیم مغفرت کا مالک ہے جو اس شخص کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے جو توبہ کر کے گناہ سے رک جاتا ہے۔ ﴿وَّذُوۡ عِقَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔‘‘ اس شخص کے لیے دردناک عذاب ہے جو تکبر کرتے ہوئے گناہ پر اصرار کرتا ہے۔