Tafsir As-Saadi
81:1 - 81:14

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔