یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔