Tafsir As-Saadi
84:1 - 84:15

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔
[5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘
[6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔
[9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔
[15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔