Tafsir As-Saadi
9:38 - 9:39

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا ہے تمھیں؟ جب کہا جاتا ہے تم سے کہ کوچ کرو راہ میں اللہ کی تو بوجھل ہوجاتے(اور گرے جاتے) ہو تم طرف زمین کی، کیا تم نے پسند کرلیا ہے دنیا کی زندگی کو بمقابلہ آخرت کے؟ پس نہیں ہے فائدہ دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلے میں مگر تھوڑا(38) اگر نہ کوچ کرو گے تم تو دے گا وہ تمھیں عذاب درد ناک اور بدل کر لے آئے گا کسی اور قوم کو سوائے تمھارے اورنہ بگاڑ سکو گے تم اس کا کچھ بھی اور اللہ ہر چیز پر خوب قادرہے(39)

[38] واضح رہے کہ اس سورۂ کریمہ کا اکثر حصہ غزوۂ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زادِ راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو‘‘! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمھارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَكُمُ انۡفِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ جب تمھیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو گرے جاتے ہو زمین پر‘‘ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔‘‘ یعنی تمھارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔﴿ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا‘‘ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’مگر بہت تھوڑا‘‘ کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا.... اول سے لے کر آخر تک.... آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اسی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے.... اللہ کی قسم! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔
[39] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب‘‘ دنیا اور آخرت میں ۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور نہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں ۔نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چرانے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا وَّيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ وَلَا تَضُرُّوۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لیے برابر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کر سکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔