Tafsir As-Saadi
9:102 - 9:103

وہ (کچھ) دوسرے وہ ہیں جنھوں نے اعتراف کیا اپنے گناہوں کا، ملایا انھوں نے ایک عمل اچھا اوردوسرا (عمل) برا، امید ہے کہ اللہ توجہ فرمائے گا ان پر، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے(102) آپ لیجیے! ان کے مالوں میں سے صدقہ(تاکہ) پاک کریں آپ انھیں اور تزکیہ کریں ان کا اس کے ذریعے سے اور دعا فرمائیں ان کے حق میں ، بلاشبہ آپ کی دعا (ذریعۂ) تسکین ہے ان کے لیےاور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(103)

[102]﴿وَاٰخَرُوۡنَ ﴾ ’’اور دوسرے لوگ ہیں ‘‘ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ بلکہ تمام بلاد اسلامیہ کے لوگ ﴿اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔‘‘ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَيِّئًا﴾ ’’ملایا انھوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔‘‘ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لیے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بد اعمال کے ساتھ خلط ملط کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ﴾’’ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔۱۔ اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔۲۔ پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا١ۚ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا﴾(فاطر:35؍41) ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں ، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں ، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو وہ خوف و رجاء کے مابین ہوتا ہے۔ وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔
[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور آپ کے قائم مقام کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً ﴾ ’’لیں ان کے مالوں سے صدقہ‘‘ اس سے مراد فرض زکاۃ ہے ﴿ تُطَهِّرُهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کو پاک کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں ﴿ وَتُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کا تزکیہ کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کی نشوونما کریں ، ان کے اخلاق حسنہ، اعمال صالحہ اور ان کے دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں ۔ ﴿ وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے حق میں دعا کیجیے‘‘ تمام مومنین کے لیے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکاۃ آپ کی خدمت میں پیش کریں ﴿ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمۡ﴾ ’’آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔‘‘ یعنی آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا‘‘ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کے لیے سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔نبی اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لیے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے، جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکاۃ واجب ہے، جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے، لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکاۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال، اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو، جیسے غلہ جات، پھل، مویشی، مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکاۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکاۃ واجب نہیں کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لیے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃً متمول ہونے کے لیے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکاۃ ادا کیے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہو سکتا۔ زکاۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی کیونکہ زکاۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکاۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام بآواز بلند دعا کرے تاکہ اس سے زکاۃ ادا کرنے والے کو سکون قلب حاصل ہو۔اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لیے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لیے طمانیت اور سکون قلب ہو۔