اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، پس نہ ہوں آپ شک میں اس (موسیٰ) کی ملاقات سے، اور کیا ہم نے اس (تورات) کو ہدایت (کا ذریعہ) واسطے بنی اسرائیل کے(23) اور بنائے ہم نے کچھ ان میں سے پیشوا، وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے، جب انھوں نے صبر کیا اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے (24) بلاشبہ آپ کا رب، وہ (ہی) فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے اس (معاملے) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(25)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی، اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا، تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے، دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے ﴿فَلَا تَكُنۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآىِٕهٖ﴾’’پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا۔‘‘ کیونکہ حق کے دلائل و براہین ثابت ہو چکے ہیں اس لیے شک و شبہے کا کوئی مقام نہیں۔﴿وَجَعَلۡنٰهُ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی ﴿هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡ﴾ ’’بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔‘‘ یعنی وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے... رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں راہنمائی عطا کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾(الزخرف:43؍4) ’’اور بے شک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ، حکمت والی کتاب ہے۔‘‘
[24]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
[25] کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔