Tafsir As-Saadi
29:14 - 29:15

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف، پس ٹھہرا رہا وہ ان میں ہزار سال مگر پچاس سال (کم) پھر پکڑ لیا ان کو طوفان نے اس حال میں کہ وہ ظالم تھے (14) پس نجات دی ہم نے اس کو اور کشتی والوں کواور بنا دیا ہم نے اس (کشتی) کو (عظیم) نشانی جہانوں کے لیے (15)

[14] اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوحu کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ ﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾ ’’پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے‘‘ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیرخواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے مگر وہ رشدوہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی حضرت نوحu نے اپنے بے انتہا صبر، حلم اور تحمل کے باوجود ان کے لیے ان الفاظ میں بددعا کی:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا ﴾(نوح:71؍26)’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو بستا نہ چھوڑ۔‘‘﴿ فَاَخَذَهُمُ الطُّوۡفَانُ ﴾ ’’پس ان کو طوفان نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ان کو اس پانی نے (طوفان کی صورت میں ) آ لیا جو بہت کثرت سے آسمان سے برسا تھا اور نہایت شدت سے زمین سے پھوٹا تھا۔ ﴿ وَهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’ اور وہ ظالم تھے‘‘ اور اس عذاب کے مستحق تھے۔
[15]﴿ فَاَنۡؔجَيۡنٰهُ وَاَصۡحٰؔبَ السَّفِيۡنَةِ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے، یعنی ان کے گھر والے اور ان پر ایمان لانے والے دیگر لوگ ﴿وَجَعَلۡنٰهَاۤ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی کشتی کو یا قصۂ نوح کو ﴿ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’تمام جہانوں کے لیے نشانی‘‘ جس سے لوگ عبرت پکڑتے ہیں کہ جو کوئی اپنے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اس کا انجام ہلاکت ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر غم سے نجات دیتا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے کشتی کو … یعنی کشتی کی جنس کو، تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا جسے وہ اپنے رب کی رحمت سے تعبیر کرتے ہیں ، جس نے ان کے لیے اس کے اسباب مہیا كيے اور اس کے معاملے کو ان کے لیے آسان بنایا اور وہ انھیں ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک اٹھائے پھرتی ہے۔