اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30)
[28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔
[29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔
[30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔