Tafsir As-Saadi
50:19 - 50:22

اور (سامنے) لے آتی ہے سختی موت کی حق کو یہ وہ (موت) ہے کہ تھا تو اس سے بھاگتا(19) اور پھونکا جائے گا صورمیں، یہ ہے دن وعید کا (20) اور آئے گا ہر نفس، اس کے ساتھ ہو گا ایک ہانکنے والا اور ایک شہادت دینے والا (21) البتہ تحقیق تھا تو غفلت میں اس سے، سو کھول (ہٹا) دیا ہم نے تجھ سے پردہ تیرا، پس تیری نگاہ آج بڑی تیز ہے (22)

[19]﴿ وَجَآءَتۡ﴾ ’’اور آئی‘‘ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس ﴿ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ﴾ ’’موت کی بے ہوشی، حق کے ساتھ۔‘‘ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ﴾ یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
[20]﴿ وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ١ؕ ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡوَعِيۡدِ﴾ ’’اور صور پھونکا جائے گا، یہی وعید کا دن ہے۔‘‘ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔
[21]﴿ وَجَآءَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ ﴾ ’’اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔‘‘ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کر لے جائے گا یہ اس سے بچ کر پیچھے نہیں رہ سکے گا ﴿وَّشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور ایک گواہ ہوگا۔‘‘ جو اس کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گا۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف اعتنا اور اس کی طرف سے ان کے اعمال کی حفاظت اور نہایت عدل و انصاف سے اس کو جزا و سزا دینے پر دلالت کرتی ہے۔
[22] یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کا اہتمام کرے۔مگر اکثر لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ لَقَدۡ كُنۡتَ فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اس سے تو غافل ہورہا تھا۔‘‘ یہ بات قیامت کے روز روگردانی کرنے والے اور انبیاء و رسل کو جھٹلانے والے کو زجر و توبیخ، ملامت اور عتاب کے طور پر کہی جائے گی۔ یعنی تو اس دن کو جھٹلایا کرتا تھا اور اس دن کے لیے عمل نہ کرتا تھا، پس اب ﴿ فَكَشَفۡنَا عَنۡكَ غِطَآءَكَ﴾ ’’ہم نے تجھ سے پردہ ہٹا دیا‘‘ جس نے تیرے دل کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی بنا پر تو کثرت سے سوتا تھا اور اپنی روگردانی پر جما ہوا تھا۔ ﴿ فَبَصَرُكَ الۡيَوۡمَ حَدِيۡدٌ﴾ ’’پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔‘‘ وہ مختلف قسم کے عذاب اور سزاؤ ں کو دیکھتا ہے جو اسے ڈرا رہی ہوں گی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی ہوں گی ۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب ہے، کیونکہ دنیا میں وہ ان فرائض سے غافل تھا جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا تھا مگر قیامت کے روز وہ بیدار ہو گا، اس کی غفلت دور ہو جائے گی اور یہ سب ایسے وقت میں ہو گا جب کوتاہی کا تدارک اور ناکامی کی تلافی ممکن نہ ہو گی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم دن کو اہل تکذیب کے ساتھ سلوک کے ذکر کے ذریعے سے، بندوں کے لیے تخویف اور ترہیب ہے۔