Tafsir As-Saadi
22:47 - 22:48

اور وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے عذاب کواور ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے وعدے کےاور بلاشبہ ایک دن نزدیک آپ کے رب کے مانند ایک ہزار سال کے ہے ان (دنوں ) سے جوتم گنتے ہو (47) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ مہلت دی میں نے ان کو جبکہ وہ ظالم تھیں ، پھر میں نے پکڑا ان کواور میری طرف ہی (سب کی) واپسی ہے (48)

[47] عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپﷺ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا تو اے محمد ! (ﷺ) یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپﷺ کو ہلکا نہ سمجھیں ، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو دردناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ يَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّكَ كَاَلۡفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کا دن اپنی طوالت، اپنی شدت اور اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہزار برس کا لگے گا … لہذا خواہ ان پر دنیا کا عذاب نازل ہو جائے یا آخرت تک عذاب کو موخر کر دیا جائے یہ دن تو بہرطور ان پر آکر رہے گا۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلم والا ہے، پس اگر وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو (انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن تمھارے شمار کے ہزاربرس کے برابر ہے۔ پس یہ مدت خواہ تم اس کو کتنا ہی لمبا کیوں نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کتنا ہی دور کیوں نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ بہت طویل مدتوں تک مہلت عطا کرتا رہتا ہے مگر حساب لیے بغیر، بے فائدہ نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ جب وہ ظالموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو چھوڑتا نہیں ۔
[48]﴿ وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَمۡلَيۡتُ لَهَا ﴾ یعنی میں نے ایک طویل مدت تک ان کو مہلت دی ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم کے باوجود اور ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا موجب نہ بنا ﴿ ثُمَّ اَخَذۡتُهَا﴾ پھر میں نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ ﴿ وَاِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ دنیا میں ان پر عذاب نازل کرنے کے باوجود، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا۔ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فریب نہ کھائیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بچیں ۔