Tafsir As-Saadi
12:84 - 12:86

اور اس نے منہ پھیرا ان سے اور کہا ہائے افسوس اوپر یوسف کے اور سفید ہو گئیں آنکھیں اس کی غم سے اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا (84)انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! تو سدا یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ ہو جائے تو (غم میں ) گھل جانے والا یا ہو جائے تو ہلاک ہونے والوں سے (85)اس نے کہا، میں تو شکایت کرتا ہوں اپنی بے قراری اور اپنے غم کی صرف اللہ کی طرف اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو نہیں جانتے تم(86)

[84] یعنی جب یعقوبu کے بیٹوں نے انھیں یہ خبر سنائی تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، ان پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ﴿ فَهُوَ كَظِيۡمٌ ﴾ ’’سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا‘‘ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔ ﴿ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اور کہا، اے افسوس یوسف پر‘‘ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوبu نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کر دی۔
[85] یعقوبu کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا: ﴿تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسفu کو یاد کرتے رہیں گے۔ ﴿ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا ﴾ ’’یہاں تک کہ آپ فنا ہو جائیں گے‘‘ آپ حرکت تک نہیں کر سکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ ﴿اَوۡ تَكُوۡنَؔ مِنَ الۡهٰؔلِكِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جائیں گے آپ ہلاک‘‘ یعنی آپ یوسفu کو یاد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے اس کو یاد کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
[86]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ ﴾ ’’میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب‘‘ یعنی میں جو بات کرتا ہوں ﴿ وَحُزۡنِيۡۤ ﴾ ’’اور اپنا غم‘‘ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے ﴿ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے سامنے‘‘ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمھارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں ۔ اس لیے تم جو چاہو کہتے رہو۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انھیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔