اے لوگوجو ایمان لائے ہو! داخل ہو جاؤ تم اسلام میں پورے کے پورے،اور نہ پیروی کرو تم شیطان کے قدموں کی، بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے ظاہر(208) پھر اگر پھسل جاؤ تم بعد اس کے کہ آگئیں تمھارے پاس واضح دلیلیں، تو جان لو! بے شک اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(209)
[208] یہ اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں، یعنی دین کے تمام احکام پر عمل کریں اور ان احکام میں سے کسی حکم کو ترک نہ کریں اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جنھوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ اگر شرعی حکم ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتا ہے تو اس پر عمل کر لیتے ہیں اگر یہ حکم خواہش نفس کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ یہ فرض ہے کہ بندے کی خواہش دین کے تابع ہو، بھلائی کا ہر وہ کام کرے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور جس کام کے کرنے سے وہ عاجز ہو، اس کی کوشش کرے اور اس کو بجا لانے کی نیت رکھے، پس اپنی نیت سے وہ اسے پا لے گا۔ چونکہ دین میں مکمل طور پر داخل ہونا شیطان کے راستوں کی مخالفت کیے بغیر ممکن نہیں اور نہ اس کا تصور کیا جا سکتا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ ﴾ ’’اور شیطان کے نقش قدم کی اتباع نہ کرو۔‘‘ یعنی اپنے اعمال میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ﴿ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تمھارا ظاہر دشمن ہے۔‘‘ یعنی اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ وہ دشمن جس کی عداوت ظاہر ہو ہمیشہ تمھیں برائی، فواحش اور ایسے کاموں کا حکم دیتا ہے جو تمھارے لیے نقصان دہ ہوں۔ چونکہ بندے سے ہمیشہ کوتاہی اور لغزش واقع ہوتی رہتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[209]﴿ فَاِنۡ زَلَلۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم پھسل جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم سے کوئی لغزش ہو جائے اور تم گناہ میں پڑ جاؤ ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡكُمُ الۡبَيِّنٰتُ ﴾ ’’احکام روشن پہنچ جانے کے بعد‘‘ یعنی علم اور یقین حاصل ہو جانے کے بعد ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ اس آیت میں نہایت سخت وعید اور تخویف ہے جو لغزشوں کو ترک کرنے کی موجب ہے۔ کیونکہ جب نافرمان لوگ اس غالب اور حکمت والی ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ نہایت قوت کے ساتھ ان کو پکڑتی ہے اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کو سزا دیتی ہے کیونکہ نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دینا اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔