Tafsir As-Saadi
20:132 - 20:132

اور حکم دیجیے اپنے گھر والوں کو نماز (پڑھنے) کااور (خود بھی) ثابت رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے رزق کا، ہم ہی رزق دیتے ہیں آپ کواور (بہترین) انجام تو تقوی (والوں ) ہی کا ہے (132)

[132] اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجیے، انھیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر اس چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم ، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں ، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔‘‘ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کر سکتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ﴾ یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ، لہٰذا فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ یعنی دنیا و آخرت کا انجام ﴿ لِلتَّقۡوٰى ﴾ تقویٰ کے لیے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب۔ اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍128) ’’اور اچھا انجام متقین کا ہے۔‘‘