ظاہر ہو گیا فساد خشکی اور سمندر (تری) میں بوجہ اس کے جو کمایا ہے لوگوں کے ہاتھوں نے، تاکہ وہ (اللہ) چکھائے انھیں (مزہ) بعض اس کا جو انھوں نے عمل کیے شاید کہ وہ رجوع کریں (41)
[41] بحروبر میں فساد برپا ہو گیا، یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی، ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤ ں کا پھیلنا، یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طورپر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکورہ عذاب اس لیے ہے ﴿لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔‘‘ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انھیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آ جائیں‘‘ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے، اس طرح ان کے احوال درست اور ان کے معاملات سیدھے ہو جائیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی آزمائش کے ذریعے سے انعام کیا اور اپنے عذاب کے ذریعے سے احسان کیا ورنہ اگر وہ ان کے تمام کرتوتوں کی سزا کا مزہ چکھاتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار نہ چھوڑتا۔