Tafsir As-Saadi
38:45 - 38:47

اوریاد کیجیے! ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اصحاب قوت و بصیرت کو (45) بے شک چن لیا تھا ہم نے ان کو ایک خاص (خصلت) کے ساتھ (وہ ہے) یاد آخرت (46) اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے (47)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے‘‘ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ابراہیم‘‘ خلیل اللہ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے بیٹے ﴿اِسۡحٰقَ وَ﴾ ’’اسحاق اور ان (ابراہیمu) کے پوتے ﴿يَعۡقُوۡبَ اُولِي الۡاَيۡدِيۡ ﴾ ’’یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالۡاَبۡصَارِ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
[46]﴿اِنَّـاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ﴾ ’’بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔‘‘ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكۡرَى الدَّارِ﴾ ’’آخرت کی یاد ہے‘‘ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔
[47]﴿وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک منتخب لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق میں سے چن لیا۔ ﴿الۡاَخۡيَارِ﴾ ’’بہترین لوگ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور عمل صالح کے حامل ہیں۔