Tafsir As-Saadi
8:36 - 8:37

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔