Tafsir As-Saadi
73:19 - 73:19

بلاشبہ یہ (قرآن) تو نصیحت ہے، پس جو چاہے پکڑے طرف اپنے رب کی راستہ(19)

[19] یہ وعظ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کی خبر دی ہے، ایک یاد دہانی ہے جس سے اہل تقویٰ نصیحت پکڑتے اور اہل ایمان (برائیوں سے) رک جاتے ہیں ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا﴾ یعنی وہ راستہ جو اسے اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ وہ راستہ اس کی شریعت کی اتباع کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا اور پوری طرح واضح کر دیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ان کے افعال پر قدرت اور اختیار عطا کیا ہے۔ ایسے نہیں جیسے ’’جبریہ‘‘ کہتے ہیں کہ بندوں کے افعال ان کی مشیت کے بغیر واقع ہوتے ہیں کیونکہ یہ نقل اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔