آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ یکتا ہے(1) اللہ بے نیاز ہے(2) نہیں جنا اس نے (کسی کو) اور نہیں وہ (خود) جنا گیا(3) اور نہیں ہے اس کا ہمسر کوئی بھی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجیے: ﴿هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ وہ اللہ ایک ہی ہے یعنی وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے۔ وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات کاملہ و عالیہ اور افعال مقدسہ کا مالک ہے، جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
[2]﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ’’اللہ بے نیاز ہے۔‘‘ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے ، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
[3] یہ اس کا کمال ہے کہ ﴿لَمۡ يَلِدۡ١ۙ۬ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ﴾ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
[4]﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾ اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں اس کا کوئی ہم سر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔ یہ سورۂ کریمہ توحیدِ اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔