اور نہ پیچھا کریں آپ اس چیز کا کہ نہیں ہے آپ کو اس چیز کا کوئی علم، بلاشبہ کان اور آنکھ اور دل، ہر ایک (کی بابت) ان میں سے، ہو گی اس سے باز پرس (36)
[36] یعنی اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمھیں علم نہیں بلکہ تم جو کچھ کہتے یا کرتے ہو، اس کے بارے میں پوری تحقیق کر لیا کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ تمھارا قول و فعل یوں ہی ختم ہو جائے گا، تمھیں اس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ ﴿اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَؔ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔوۡلًا﴾ ’’بے شک کان، آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی‘‘ پس جو بندہ یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کے قول و فعل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس بارے میں اسے جواب دہی کرنی ہو گی کہ اس نے اپنے ان اعضاء کو کہاں کہاں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے… اس پر لازم ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تیار کر لے۔ ان امور کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس نے ان اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں استعمال نہ کیا ہو، دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نہ کیا ہو اور ان باتوں سے باز نہ رہا ہو جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔