Tafsir As-Saadi
22:32 - 22:33

(بات) یہی ہےاور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں کی تو بلاشبہ یہ ہے دلوں کی پرہیز گاری سے (32)تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں منافع ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر ان کے حلال (ذبح) ہو نے کی جگہ ہے نزدیک قدیم گھر (بیت اللہ) کے (33)

[32] یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں ۔ انھی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ﴾(البقرۃ:2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانوربھی شعائر اللہ میں سے ہیں ۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لیے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے تابع ہے۔
[33]﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’تمھارے لیے ان میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں ﴿ مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لیے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کر سکتے ہیں ، مثلاً: ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ ﴿ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں ۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیت العتیق) ’’بیت اللہ‘‘ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کر دیا جائے تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔