Tafsir As-Saadi
39:21 - 39:21

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ ہی نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر داخل کیا اس کو چشموں میں زمین کے ، پھر وہ نکالتا ہے اس کےذریعے سے کھیتی اس حال میں کہ مختلف ہیں رنگ اس کے، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے، پس دیکھتے ہیں آپ اس کو زرد شدہ ، پھر کر دیتا ہے وہ اس کو ریزہ ریزہ۔ بلاشبہ اس میں البتہ نصیحت ہے واسطے اہل عقل کے (21)

[21] اللہ تعالیٰ عقل مندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے آسمان سے پانی برسایا، اس پانی کو زمین کے اندر چشموں کی صورت میں رواں دواں کیا، یعنی اس پانی کو چشموں میں محفوظ کیا جہاں سے یہ پانی نہایت آسانی اور سہولت سے نکالا جاتا ہے۔ ﴿ثُمَّ يُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا مُّؔخۡتَلِفًا اَلۡوَانُهٗ﴾ ’’، پھر اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے مختلف قسم کے غلہ جات نکالتا ہے‘‘ مثلاً: گیہوں، مکئی، جو اور چاول پیدا کرتا ہے۔ ﴿ثُمَّ يَهِيۡجُ ﴾ ، پھر یہ کھیتیاں پوری طرح پک کر یا کسی آفت کی وجہ سے خشک ہو جاتی ہیں ﴿فَتَرٰىهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَجۡعَلُهٗ حُطَامًا ﴾ ’’تو تم اسے زرد دیکھتے ہو، پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’بلاشبہ عقل مندوں کے لیے البتہ اس میں نصیحت ہے۔‘‘ ان کھیتیوں کے ذریعے سے اپنے رب کی عنایات اور بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کو یاد کرتے ہیں کہ اس نے ان کے لیے اس پانی کے حصول کو آسان بنایا اور ان کے مصالح کے مطابق اس پانی کو زمین کے خزانوں میں جمع کیا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو یاد کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو اسی طرح زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ ان تمام افعال کوسرانجام دینے والی ہستی ہی درحقیقت عبادت کی مستحق ہے۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان عقل مندوں میں شامل فرما، جن کا تو نے نام بلند کیا ہے، انھیں عقل سے بہرہ مند کر کے راہ راست پر گامزن کیا اور ان کے سامنے اپنی عظیم کتاب کے اسرار اور اپنی آیات سے پردہ اٹھایا جن اسرار کی معرفت ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی بے شک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔