اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔