Tafsir As-Saadi
20:87 - 20:89

انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)

[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔
[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔