Tafsir As-Saadi
3:110 - 3:111

ہو تم بہترین امت جو نکالی (بنائی) گئی ہے لوگوں کے لیے، تم حکم کرتے ہو ساتھ اچھے کاموں کے اور روکتے ہو برے کاموں سے اور ایمان رکھتے ہو تم ساتھ اللہ کےاور اگر ایمان لاتے اہل کتاب تو البتہ ہوتا بہت بہترین ان کے لیے، بعض ان میں سے ایمان لانے والے ہیں اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں(110) وہ ہرگز نہیں ضرر پہنچا سکیں گے تمھیں مگر ایذا تھوڑی سی اور اگر لڑیں وہ تم سے تو پھیر دیں گے تمھاری طرف پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ(111)

[111,110] اللہ تعالیٰ اس امت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ تمام امتوں سے بہتر اور افضل امت ہے جسے اللہ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کامل کرتے ہیں، یعنی ایسا ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کے ہر حکم پر عمل کرنے کو مستلزم ہے۔ اور دوسروں کو بھی کامل بناتے ہیں۔ یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پرعمل پیرا ہوتے ہیں، جس میں مخلوق کو اللہ کی طرف بلانا، اس مقصد کے لیے ان سے جہاد کرنا، ان کو گمراہی اور نافرمانی سے روکنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنا شامل ہے۔ اس وجہ سے وہ بہترین امت ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں ،یعنی اس فرمان الٰہی میں:﴿وَلۡتَؔكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَؔيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیک کاموں کا حکم کرے، اور برے کاموں سے روکے۔‘‘ اللہ کی طرف سے اس امت کو ایک حکم دیا گیا تھا۔ اور جسے حکم دیا جائے وہ بعض اوقات حکم کی تعمیل کرتا ہے اور بعض اوقات تعمیل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس امت نے وہ کام انجام دیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا تھا، اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور تمام امتوں سے افضل قرار پانے کی مستحق ہوگئی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ اٰمَنَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نرم انداز اختیار کرتے ہوئے اہل کتاب کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ لیکن ان میں سے بہت کم افراد ایمان لائے۔ زیادہ فاسق، اللہ کے نافرمان اور اللہ کے دوستوں سے طرح طرح سے دشمنی کا اظہار کرنے والے تھے۔ لیکن اللہ کا اپنے مومن بندوں پر یہ لطف و کرم ہے کہ اس نے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ اور مومنوں کو ان سے نہ دینی نقصان پہنچا، نہ جسمانی، وہ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زبان سے تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ اور یہ چیز ایسی ہے کہ اس سے کوئی بھی دشمن بچ نہیں سکتا۔ اگر وہ مومنوں سے جنگ کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔