او ر اگر تعجب کریں آپ تو عجیب ہے بات ان کی کہ کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی تو کیا ہم ، البتہ نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کےاور یہی لوگ ہیں کہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور یہی لوگ دوزخی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (5)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ تَعۡجَبۡ ﴾ ’’اور اگر آپ تعجب کریں ‘‘ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لیے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے۔ کہتے ہیں : ﴿ فَعَجَبٌ قَوۡلُهُمۡ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے۔ انھوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلوق کی قدرت پر قیاس کر لیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ خالق کے لیے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کو پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں ، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ﴾’’یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ روشن چیز ہے۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ الۡاَغۡلٰلُ ﴾ ’’اور وہی لوگ، طوق ہیں ‘‘ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ﴾ ’’ان کی گردنوں میں ‘‘ کیونکہ انھیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ لہذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔