Tafsir As-Saadi
18:23 - 18:24

اور قطعاً نہ کہیں آپ کسی چیز کے متعلق کہ بے شک میں کرنے والا ہوں یہ کل (23) مگر یہ کہ چاہے اللہ اور یاد کریں اپنے رب کو جب بھول جائیں آپ اور کہیے! امید ہے کہ ہدایت دے دے مجھے میرا رب قریب تر راستے کی اس سے، بھلائی کے (24)

[23] یہ نہی دیگر نواہی کی مانند (عام) ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب کی بنا پر ہے اور اس کے مخاطب رسول اللہﷺ ہیں مگر اس کا خطاب عام مکلفین کے لیے بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے روک دیا ہے کہ بندۂ مومن، مستقبل کے امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ملائے بغیر کہے ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور یہ اس لیے کہ اس میں خطرات ہیں اور وہ ہے مستقبل کے غیبی معاملات کے بارے میں کلام کرنا، جن کے بارے میں بندہ نہیں جانتا کہ وہ ان پر عمل کر سکے گا یا نہیں یا وہ ہو گا یا نہیں ؟ اس طرح کہنے میں فعل کے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ مستقل طورپر بندے کی طرف لوٹانا ہے، حالانکہ یہ قابل احتراز شے اور ممنوع ہے کیونکہ مشیت تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾(التکویر:81؍29) ’’تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ جہانوں کا رب چاہتا ہے۔‘‘ اپنے کسی امر میں اللہ کی مشیت کے ذکر کرنے میں اس امر کی آسانی، تسہیل، اس میں برکت کا حصول اور بندے کی اپنے رب سے مدد کی طلب ہے۔
[24] علاوہ ازیں بندہ ایک بشر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ذکر کو بھول جانا ایک لابدی امر ہے اس لیے اس نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ جب اسے یاد آئے وہ استثناء کر لیا کرے (یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ لیا کرے) تاکہ مطلوب و مقصود حاصل ہو اور محذور سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ ﴾ ’’جب تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر‘‘ کے عموم سے بھی یہ حکم اخذ کیا جاتا ہے کہ نسیان کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نسیان کو زائل کر دیتا ہے اور بندے کو وہ امر یاد دلا دیتا ہے جو اسے بھول گیا تھا۔ اسی طرح اللہ کا ذکر بھول جانے اور نسیان کا شکار ہو جانے والے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے اور اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔ چونکہ بندہ اصابت کی توفیق اور اپنے اقوال و افعال میں عدم خطا کے لیے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ کہے ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّيۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰؔذَا رَشَدًا ﴾ ’’امید ہے کہ دکھائے مجھے میرا رب اس سے زیادہ نزدیک نیکی کی راہ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے، اسی سے امید وابستہ کرے اور اسی پر اس بارے میں بھروسہ کرے کہ وہ اس کی رشد و ہدایت کے لیے قریب ترین راستہ کی طرف اس کی راہنمائی کرے گا۔ جس بندے کا حال یہ ہو، پھر وہ رشد و ہدایت کی طلب میں اپنی کوشش اور جہد صرف کرے، وہ اس لائق ہے کہ اس کو رشد و ہدایت کی توفیق عطا ہو اس کے پاس اس کے رب کی مدد آئے اور اس کے تمام امور میں اسے درستی و راستی عطا ہو۔