اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر ناگہاں تم انسان ہو، تم پھیل رہے ہو(زمین میں)(20) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ اس نے پیدا کیں (بنائیں) تمھارے لیے، تمھارے نفسوں (تمھاری جنس) سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے، اور پیدا کر دی ا س نے تمھارے درمیان محبت اور مہربانی ، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں(21)
[20] یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے، اس کی عظمت کے کمال، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کی قوت و اقتدار، اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بے پایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’اور اسی کے نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ یہ تھی نسل انسانی کے جدامجد، حضرت آدم u کی تخلیق ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو۔‘‘ اور اس نے تمھیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمھیں اس اصل سے تخلیق کیااور پھر تمھیں زمین کے کناروں تک پھیلایا، وہی ہستی رب معبود، قابل ستائش بادشاہ کائنات، نہایت مہربان اور محبت کرنے والا پروردگار ہے جو تمھیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے گا۔
[21]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ ﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی عنایت، اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے ﴿اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھارے جوڑے بنائے‘‘ جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ ﴿لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً ﴾ ’’تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی‘‘ نکاح و ازدواج پر مترتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع، وجود اولاد کی منفعت، اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک جو لوگ غوروفکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔‘‘ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔