بے شک اللہ، اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اوروہی نازل کرتا ہے بارش اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں (ماؤ ں کے پیٹوں) میں ہے اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کیا کام کرے گا وہ کل کو اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کس زمین میں وہ مرے گا، بے شک اللہ خوب جاننے والا، خوب خبردار ہے (34)
[34] یہ امر متحقق ہے کہ علم الٰہی نے غیب و شاہد اور ظاہر و باطن ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اور کبھی کبھی بہت سے امور غیبیہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مطلع کر دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مذکور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا علم کسی کو بھی نہیں دیا گیا، عام لوگ تو کیا ان امور کو کوئی نبی مرسل جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾(الأعراف:7؍187)’’وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ آخر قیامت کی گھڑی کب آئے گی، کہہ دیجیے اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا اور وہ تم پر اچانک ہی آ جائے گی۔‘‘﴿وَيُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ وہ اکیلا ہی ہے جو بارش برساتا ہے اور وہی اس کے برسنے کا وقت جانتا ہے۔ ﴿وَيَعۡلَمُ مَا فِي الۡاَرۡحَامِ ﴾ پس رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس نے تخلیق کیا ہے اور اس کے متعلق وہی جانتا ہے کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ، اس لیے اس پر مقرر کردہ فرشتہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے لڑکا یا لڑکی؟ پس اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌ مَّاذَا تَكۡسِبُ غَدًا ﴾ ’’اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔‘‘ یعنی دین اور دنیا کی کمائی میں سے ﴿وَمَا تَدۡرِيۡ نَفۡسٌۢ بِاَيِّ اَرۡضٍ تَمُوۡتُ ﴾ ’’اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اسے موت آئے گی۔‘‘ بلکہ یہ تمام علم صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہے۔ ان مذکورہ چیزوں کا علم مخصوص کرنے کے بعد بیان فرمایا کہ اس کاعلم تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی امور، تمام چھپی ہوئی اور تمام اسرار نہاں سے باخبر اور ان کو جانتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کاملہ ہے کہ اس نے پانچ چیزوں کا علم بندوں سے چھپا رکھا ہے کیونکہ اس کے اندر ان کے مصالح پنہاں ہیں۔ صاحب تدبر پر یہ چیز مخفی نہیں۔