کیا نہیں دیکھا آپ نے، بلاشبہ اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالے ہم نے اس کے ذریعے سے ایسے پھل کہ مختلف ہیں ان کے رنگ، اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ، مختلف ہیں ان کے رنگ اور بہت گہرے کالے سیاہ(27) اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں سے بھی، مختلف ہیں ان کے رنگ اسی طرح بلاشبہ ڈرتے ہیں اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف علماء ہی، بلاشبہ اللہ خوب غالب ہے بہت بخشنے والا(28)
[27] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کیے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔
[28] اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں اور مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیّت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بے شمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔‘‘ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾(البینۃ:98؍8) ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔‘‘ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع واقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿غَفُوۡرٌ ﴾ ’’بخشنے والا ہے‘‘ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔