Tafsir As-Saadi
6:10 - 6:11

اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پھر گھیر لیا ان کو جنھوں نے تمسخر کیا تھا ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے(10) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟(11)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے ﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾’’اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے۔‘‘جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا انھوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کر دیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔ ﴿ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے‘‘ پس اے جھٹلانے والو! جھٹلانے کی روش پر قائم رہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تمھیں بھی وہی عذاب آ لے گا جو ان قوموں پر آیا تھا۔
[11]﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ ’’کہو کہ ملک میں چلو پھراور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘ یعنی اگر تمھیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ تم دیکھو گے کہ ایسی قوم ہلاک کر دی گئی اور ایسی امتیں عذاب میں مبتلا کر دی گئیں ۔ ان کے گھر ویران ہو گئے اور ان عیش کدوں میں رہ کر مسرتوں کے مزے لوٹنے والے نیست و نابود ہو گئے۔۔۔ اللہ جبار نے ان کو ہلاک کر دیا اور اہل بصیرت کے لیے ان کو نشان عبرت بنا دیا۔ یہ (سَیْر) جس کا حکم دیا گیا ہے بدنی اور قلبی سیر کو شامل ہے جس سے عبرت جنم لیتی ہے۔ رہا عبرت حاصل کیے بغیر چل پھر کر دیکھنا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔