وہ (کافر) سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کی بابت،کب ہے قائم (واقع) ہونا اس کا؟(42)کس چیز میں ہیں آپ اس کےذکر سے؟ (43) آپ کے رب ہی کی طرف ہے انتہا اس (کے علم) کی (44) پس صرف آپ تو ڈرانے والے ہیں اس کو جو ڈرتا ہے اس سے(45)گویا کہ وہ (کافر) جس دن دیکھیں گے اس کو (تو سمجھیں گے کہ) نہیں ٹھہرے وہ (دنیا میں) مگر ایک شام یا صبح اس کی (46)
[44-42] قیامت کو جھٹلانے والے اور لغزش کے خواہاں لوگ آپ سے پوچھتے ہیں: ﴿ عَنِ السَّاعَةِ﴾ ’’قیامت کے متعلق‘‘ کہ اس کا وقوع اور ﴿اَيَّانَ مُرۡسٰهَا﴾’’اس کا قیام کب ہوگا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ فِيۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِكۡرٰىهَا﴾ ’’پس تم اس کے ذکر کی فکر میں ہو؟‘‘ یعنی اس کے ذکر اور اس کی آمد کے وقت کی معرفت حاصل کرنے میں آپ کو اور ان کو کیا فائدہ؟ پس اس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اس لیے، کہ قیامت کے وقت کے بارے میں بندوں کے علم میں کوئی دینی مصلحت ہے نہ دنیاوی مصلحت، بلکہ قیامت کے وقت کے اخفاء ہی میں مصلحت ہے، اس لیے اس کے علم کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اور اس کے علم کو صرف اپنے لیے مخصوص رکھا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِلٰى رَبِّكَ مُنۡتَهٰىهَا﴾ یعنی اس کا علم اللہ تعالیٰ پر منتہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ١ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔ ۘ ؕ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً١ؕ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۰۰﴾(الاعراف:7؍187) ’’یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا، آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کو اس وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ فرمادیجیے کہ اُس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
[45، 46]﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ يَّخۡشٰىهَا﴾ یعنی آپ کی تنبیہ کا فائدہ صرف اسی شخص کوہوتا ہے جو اس گھڑی کی آمد سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے خائف ہے، پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے سب سے اہم چیز اس کے لیے تیاری اور اس کے لیے عمل ہے۔ جو کوئی قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا، اور نہ وہ اس تکلیف میں پڑتا ہے، کیونکہ یہ ایسا تعنت ہے جو تکذیب اور عناد پر مبنی ہے، اور جب سائل اس حال کو پہنچ جائے تو اس کے بارے میں جواب دینا عبث ہے، احکم الحاکمین اس عبث کام سے منزہ ہے۔