Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-'Asr — Ayah 2

103:2
إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ٢
مقرر انسان ٹوٹے میں ہے1
Footnotes
  • [1] انسان گھاٹے میں ہے:اس سے بڑھ کر ٹوٹا کیا ہو گا کہ برف بیچنے والے دوکاندار کی طرح اس کی تجارت کا ر اس المال جسے عمر عزیز کہتے ہیں، دم بدم کم ہوتا جارہا ہے۔ اگر اس رواروی میں کوئی ایسا کام نہ کر لیا جس سے یہ عمر رفتہ ٹھکانے لگ جائے، بلکہ ایک ابدی اور غیرفانی متاع بن کر ہمیشہ کے لئے کارآمد بن جائے تو پھر خسارہ کی کوئی انتہا نہیں۔ زمانہ کی تاریخ پڑھ جاؤ اور خود اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرو تو ادنیٰ غوروفکر سے ثابت ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بے پروا ہو کر محض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخر کس طرح ناکام و نامراد بلکہ تباہ برباد ہو کر رہے۔ زندگی کی قدروقیمت: آدمی کو چاہیئے کہ وقت کی قدر پہچانے اور عمر عزیز کے لمحات کو یونہی غفلت و شرارت یا لہوولہب میں نہ گنوائے جو اوقات تحصیل شرف و مجد اور اکتساب فضل و کمال کی گرم بازاری کے ہیں، خصوصًا وہ گراں ما یہ اوقات جن میں آفتاب رسالت اپنی انتہائی نور افشانی سے دنیا کو روشن کر رہا ہے، اگر غفلت و نسیان میں گزار دیے گئے تو سمجھو کہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لئے کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ بس خوش نصیب اور اقبال مند انسان وہی ہیں جو اس عمر فانی کو باقی اور ناکارہ زندگی کو کارآمد بنانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اور بہترین اوقات اور عمدہ مواقع کو غنیمت سمجھ کر کسب سعادت اور تحصیل کمال کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آگے اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں کیا گیا ہے۔