Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-'Asr — Ayah 3

103:3
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ ٣
مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی1
Footnotes
  • [1] اس نقصان سے بچنے کے چار طریقے:یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چارباتوں کی ضرورت ہے۔ اوّل خدا و رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض قلب و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جوارح میں ظاہر ہو، اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو۔ تیسرے محض اپنی انفرادی صلاح وفلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملّت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصیت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلافِ طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبر و استقامت سے تحمل کریں، ہر گز قدم نیکی کے راستہ سے ڈگمگانے نہ پائے۔ خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہونگے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہیگا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ سورۃ عصر کی فضیلت: فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔ امام شافعیؒ نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کر دی جاتی تو (سمجھدار بندوں کی) ہدایت کے لئے کافی تھی۔ بزرگان سلف میں جب دو مسلمان آپس میں ملتے تھے، جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو یہ سورت سنایا کرتے تھے۔