Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Kawthar — Ayah 3

108:3
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ ٣
بیشک جو دشمن ہے تیرا وہی رہ گیا پیچھا کٹا1
Footnotes
  • [1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہی ابتر ہے:بعض کفار حضور ﷺ کی شان میں کہتے تھے کہ اس شخص کے کوئی بیٹا نہیں۔ بس زندگی تک اس کا نام ہے پیچھے کون نام لیگا۔ ایسے شخص کو ان کے محاورات میں "ابتر" کہتے تھے ۔ "ابتر" اصل میں دم کٹے جانور کو کہتے ہیں۔ جس کے پیچھے کوئی نام لینے والا نہ رہے۔ گویا اس کی دم کٹ گئی۔ قرآن نے بتلایا کہ جس شخص کو اللہ خیر کثیر عنایت فرمائے اور ابدالآباد تک نام روشن کرے اسے "ابتر" کہنا پرلے درجہ کی حماقت ہے۔ حقیقت میں "ابتر" وہ ہے جو ایسی مقدس و مقبول ہستی سے بغض و عناد اور عداوت رکھے اور اپنے پیچھے کوئی ذکرِ خیر اور اثر نیک نہ چھوڑے۔ آج ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد ماشاء اللہ حضور ﷺ کی روحانی اولاد سے دنیا پٹی پڑی ہے اور جسمانی دختری اولاد بھی بکثرت ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ کا دین، آپ ﷺ کے آثار صالحہ، عالم میں چمک رہے ہیں۔ آپ ﷺ کی یاد نیک نامی اور محبت و عقیدت کے ساتھ کروڑوں انسانوں کے دلوں کو گرما رہی ہے۔ دوست دشمن سب آپ ﷺ کے اصلاحی کارناموں کا صدق دل سے اعتراف کر رہے ہیں۔ پھر دنیا سے گزر کر آخرت میں جس مقام محمود پر آپ ﷺ کھڑے ہونگے اور جو مقبولیت و متبوعیت عامہ آپ ﷺ کو علی رؤس الاشہاد حاصل ہوگی وہ الگ رہی۔ کیا ایسی دائم البرکۃ ہستی کو (العیاذباللہ) "ابتر" کہاجاسکتا ہے؟ اس کے مقابل اس گستاخ کو خیال کرو جس نے یہ کلمہ زبان سے نکالا تھا۔ اس کا نام و نشان کہیں باقی نہیں، نہ آج بھلائی کے ساتھ اسے کوئی یاد کرنے والا ہے۔ یہ ہی حال ان تمام گستاخوں کا ہوا، جنہوں نے کسی زمانہ میں آپ ﷺ کے بغض و عداوت پر کمر باندھی اور آپ ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی اور اسی طرح آئندہ ہوتا رہیگا۔