Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Kafirun — Ayah 1

109:1
قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ ١
تو کہہ اے منکرو1
Footnotes
  • [1] کفار قریش کی ایک پیشکش اور اس کا جواب:چند رؤساء قریش نے کہا کہ اے محمد! (ﷺ)( آؤہم تم صلح کرلیں) کہ ایک سال تک آپ ہمارے معبودوں کی پرستش کیا کریں، پھر دوسرے سال ہم آپ کے معبود کو پوجیں۔ اس طرح دونوں فریق کو ہر ایک کے دین سے کچھ کچھ حصہ مل جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی پناہ! کہ میں اس کے ساتھ (ایک لمحہ کے لئے بھی) کسی کو شریک ٹھہراؤں۔ کہنے لگے اچھا تم ہمارے بعض معبودوں کو مان لو۔ (ان کی مذمت نہ کرو) ہم تمہاری تصدیق کریں گے اور تمہارے معبود کو پوجیں گے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی، اور آپ ﷺ نے ان کے مجمع میں پڑھ کر سنائی۔ جس کا خلاصہ مشرکین کے طوروطریق سے کلی بیزاری کا اظہار اور انقطاع تعلقات کا اعلان کرتا ہے۔ بھلا انبیاء علیہم السّلام جن کا پہلا کام شرک کی جڑیں کاٹنا ہے، ایسی ناپاک اور گندی صلح پر کب راضی ہوسکتے ہیں۔ فی الحقیقت اللہ کے معبود ہونے میں تو کسی مذہب والے کو اختلاف ہی نہیں۔ خود مشرکین اس کا قرار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم بتوں کی پرستش بھی اسی لئے کرتے ہیں کہ یہ ہم کو اللہ سے نزدیک کر دینگے مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی (زمر ۔۳) اختلاف جو کچھ ہے غیر اللہ کی پرستش میں ہے لہٰذا صلح کی جو صورت قریش نے پیش کی تھی اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ وہ تو برابر اپنی روش پر قائم رہیں یعنی اللہ اور غیر اللہ دونوں کی پرستش کیا کریں اور آپ ﷺ اپنے مسلک توحید سے دستبردار ہو جائیں۔ اس گفتگوئے مصالحت کو ختم کرنے کے لئے یہ سورت اتاری گئ۔