Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tur — Ayah 21

52:21
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١
اور جو لوگ یقین لائے اور اُنکی راہ پر چلی اُنکی اولاد ایمان سے پہنچا دیا ہم نے اُن تک اُنکی اولاد کو اور گھٹایا نہیں ہم نے اُن سے ان کا کیا ذرا بھی1 ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے2
Footnotes
  • [1] اوپر فضل کا بیان تھا۔ یہاں عدل کا ضابطہ بتلادیا۔ یعنی عدل کا مقتضاء یہ ہے کہ جس آدمی نے جو کچھ اچھا یا برا عمل کیا ہے، اسی کے موافق بدلہ پائے۔ آگے اللہ کا فضل ہے کہ وہ کسی کی تقصیر معاف فرمادے یا کسی کا درجہ بلند کردے۔
  • [2] جنت میں نیک اولاد اپنے آباء کے ساتھ ہو گی:یعنی کاملوں کی اولاد اور متعلقین اگر ایمان پر قائم ہوں اور ان ہی کاملوں کی راہ چلیں۔ جو خدمات ان کے بزرگوں نے انجام دی تھیں یہ بھی ان کی تکمیل میں ساعی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو جنت میں ان ہی کے ساتھ ملحق کردے گا۔ گو ان کے اعمال و احوال ان کے اعمال و احوال سے کمًّا وکیفًا فروتر ہوں۔ تاہم ان بزرگوں کے اکرام اور عزت افزائی کے لئے ان تابعین کو ان متبوعین کے جوار میں رکھا جائے گا۔ اور ممکن ہے بعض کو بالکل ان ہی کے مقام اور درجہ پر پہنچا دیا جائے جیسا کہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس صورت میں یہ گمان نہ کیا جائے کہ ان کاملین کی بعض نیکیوں کا ثواب کاٹ کر ذریت کو دیدیا جائے گا۔ نہیں، یہ محض اللہ کا فضل و احسان ہوگا کہ قاصرین کو ذرا اٹھا کر اوپر کاملین کے مقام تک پہنچا دیا جائے۔ (تنبیہ) احقر نے وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ کا جو مطلب لیا ہے، صحیح بخاری کی یہ حدیث اس کے مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قَالَتِ الْاَانْصَارُ (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ)! اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ اَتْبَاعًا وَ اِنَّا قَدِ اتَّبعْنَا کَ فَادْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَ اَتْبَّاعَنَا مِنَّا۔ قَالَ النَّبِیُّ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَتْبَاعَھُمْ مِنْھُمْ ۔۔