[1]کفّار کی خوش فہمی اور اس کا جواب:کفّار مکّہ نے غرور و تکبر سے اپنے دل میں یہ ٹھہرا رکھا تھا کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں پر عنایت و بخشش ہوگی تو ہم پر ان سے بہتر اور بڑھ کر ہو گی۔ اور جس طرح دنیا میں ہم کو اللہ نے عیش و رفاہیت میں رکھا ہے وہاں بھی یہ ہی معاملہ رہیگا۔ اس کو فرمایا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے اگر ایساہو تو یہ مطلب ہو گا کہ ایک وفادار غلام جو ہمیشہ اپنے آقا کی حکمبرداری کے لئے تیار رہتا ہے، اورایک جرائم پیشہ باغی دونوں کا انجام یکساں ہو جائے، بلکہ مجرم اور باغی، وفاداروں سے اچھے رہیں یہ وہ بات ہے جس کو عقل سلیم اور فطرت صحیحہ رَد کرتی ہے۔