[1]
یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہی کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے۔ آخر نہ ماننے کی وجہ کیا ہے؟ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تنخواہ یا کمیشن وغیرہ) طلب کرتے ہیں؟ جس کے بوجھ میں وہ دبے جا رہے ہیں۔ یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے؟ جسے وہ حفاظت کے لئے قرآن کی طرح لکھ لیتے ہیں۔ اسلئے آپ کے اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ آخر کچھ سبب تو ہونا چاہئے۔ جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا اور اس چیز سے استغناء بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجز عناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔