[1]حضرت نوح علیہ السلام کی اللہ سے قوم کی شکایت:یعنی نوحؑ ساڑھے نو سو برس تک ان کو سمجھاتے رہے۔ جب ُمید کی کوئی جھلک باقی نہ رہی تو مایوس اور تنگدل ہوکر بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا کہ بارخدا یا میں نے اپنی طرف سے دعوت و تبلیغ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ رات کی تاریکی میں اور دن کے اجالے میں برابر ان کو تیری طرف بلاتا رہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ جوں جوں تیری طرف آنے کو کہا گیا یہ بدبخت اور زیادہ اِدھر سے منہ پھیر کر بھاگے اور جس قدر میری طرف سے شفقت و دلسوزی کا اظہارہوا، ان کی جانب سے نفرت اور بیزاری بڑھتی گئ۔