[1]ولید کی حرص مال اور ناشکری:یعنی باوجود کثرت نعمت و ثروت کے کبھی حرفِ شکر زبان سے نہ نکلا۔ بلکہ ہمیشہ بت پرستی اور زیادہ مال جمع کرنے کی حرص میں منہمک رہتا اور اگر رسول کریم ﷺ کبھی اس کے سامنے بہشت کی نعمتوں کا ذکر فرماتے تو کہتا تھا کہ اگر یہ شخص اپنے بیان میں سچا ہے تو یقین کامل ہے کہ وہاں کی نعمتیں بھی مجھے ہی ملیں گی۔ اس کو فرماتے ہیں کہ باوجود اس قدر ناشکری اور حق ناشناسی کے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت کی نعمتیں اور زیادہ دے گا۔