[1]
آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہر حال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں برے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہونگے۔ اس لئے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے چنانچہ چاند کا اوّل بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء واکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہو جانا رات کے گذر جانے اور اس عالم کا ظہور نورصبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔