[1]موت کے وقت جب روح ہنسلی میں آجائے گی:یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہو گیا۔