اور جھک رہیں اُن پر اسکی چھائیں اور پست کر رکھے ہیں اُسکے گچھے لٹکا کر1
Footnotes
[1]جنّت کے پھلوں کے گچھے:یعنی درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ان پر جھکی پڑتی ہونگی اور پھلوں کے خوشے ایسی طرح لٹکے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کر دیئے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے، لیٹے بے تکلف چن سکے (تنبیہ) شاید درختوں کی شاخوں کو یہاں ظلال سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی، کوئی دوسری قسم کا نور تو وہاں ضرور ہوگا۔ اس کے سایہ میں بہشتی تفنّن و تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ واللہ اعلم۔