[1]دوسری زندگی پر کفّار کا استہزاء:یعنی قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھری ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائیگی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہو گی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا" یہ تمسخر سے کہتے تھے یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔