[1]اللہ اس کو دیکھتا تھا:یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی۔ بدن کس کس چیز سے بنا۔ پھر کیا اعتقاد رکھا، کیا عمل کیا، دل میں کیا بات تھی۔ زبان سے کیا نکلا۔ ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئ اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے وغیر ذالک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدر واقف ہو اور ہر جزئی و کلی حالت کو نگاہ میں رکھتا ہو، کیا گمان کرسکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل اور معطل چھوڑ دیگا؟ ضرور ہے کہ اس کے اعمال پر ثمرات و نتائج مرتب کرے۔