[1]اللہ اپنے ارادوں میں فعال ہے:یعنی اپنے علم و حکمت کے موافق جو کرنا چاہے کچھ دیر نہیں لگتی نہ کوئی روکنے ٹوکنے کا حق رکھتا ہے بہرحال نہ اسکے انعام پر بندہ کو مغرور ہونا چاہئے نہ انتقام سے بے خوف بلکہ ہمیشہ اس کی صفات جلال و جمال دونوں پر نظر رکھے اور خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کو دل سے زائل نہ ہونے دے۔